ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے

غزل| احمد فرازؔ انتخاب| بزم سخن

ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے
گل نہ جانے بھی تو کیا باغ تو سارا جانے
کس کو بتلائیں کہ آشوبِ محبت کیا ہے
جس پہ گزری ہو وہی حال ہمارا جانے
جان نکلی کسی بسمل کی نہ سورج نکلا
بجھ گیا کیوں شبِ ہجراں کا ستارا جانے
جو بھی ملتا ہے وہ ہم سے ہی گلہ کرتا ہے
کوئی تو صورتِ حالات خدارا جانے
دوست احباب تو رہ رہ کے گلے ملتے ہیں
کس نے خنجر مرے سینے میں اتارا جانے
تجھ سے بڑھ کر کوئی نادان نہ ہو گا کہ فرازؔ
دشمنِ جاں کو بھی تو جان سے پیارا جانے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام