منہ ہم سے ہی پھیرو ہو یہ کیا گھات کرو ہو

غزل| پیامؔ سعیدی انتخاب| بزم سخن

منہ ہم سے ہی پھیرو ہو یہ کیا گھات کرو ہو
اوروں سے تو تم کھل کے ملاقات کرو ہو
افسانے وفا کے ہیں وفا آج کہاں ہے؟
اس دور میں کس دور کی تم بات کرو ہو
ہم مان لیں تم کو یہ ضروری تو نہیں ہے
تم رات کو دن دن کو اگر رات کرو ہو
چھوڑو یہ لگی لپٹی جو کہنا ہے کہو سچ
ہر بات میں بے بات کی کیا بات کرو ہو
سب وقت کے مارے ہیں کوئی کس سے یہ پوچھے
کیا حال ہے کیسے بسر اوقات کرو ہو
گلشن کی نگہبانی کا دعوی بھی ہے تم کو
گلچیں سے بھی چھپ چھپ کے اشارات کرو ہو
آپ اپنے گریبان میں منہ ڈال کے دیکھو
غیروں سے یہ کیا میری شکایات کرو ہو
تم خوش رہو آباد رہو ہم سے نہ پوچھو
کس طرح بسر درد کے لمحات کرو ہو

پھرتا ہے لیے لاش پیامؔ اپنی وفا کی
دیوانہ ہے اس شخص کی کیا بات کرو ہو


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام