نہیں کٹتی شبِ فرقت لبوں پہ گھٹ کے جان آئی

عزیزؔ لکھنوی
نہیں کٹتی شبِ فرقت لبوں پہ گھٹ کے جان آئی
کہاں تک اے دلِ رنجور دعوائے شکیبائی
وہ کم ہے جو نہ ہو اس دل کا عالم وقتِ نظارہ
ترے نقشِ قدم کے جب ہزاروں ہیں تماشائی
ابو القاسم محمدؐ شہسوارِ عرصۂ ایماں
کہ جن کی خاکِ پا ہے چشمِ دل کو کحلِ بینائی
انھیں کے فیض سے ادریسؑ علموں کے ہوئے واضع
سلیماںؑ نے کیا حاصل انھیں سے درسِ دانائی
چمکتا تھا انہیں کا نور پیشانیٔ یوسفؑ میں
انہیں سے دیدۂ یعقوبؑ نے پائی تھی بینائی
پلٹ آئے نبیؐ معراج کی شب اتنے عرصہ میں
کہ بستر گرم اور زنجیرِ در ہلتی ہوئی پائی
گلستاں ان پہ کیوں کر آتشِ نمرود ہو جاتی
نہ ہوتے گر محمدؐ کے خلیل اللہؑ شیدائی
پڑھی ہے اس قدر اوراقِ گل میں مدح حضرتؐ کی
کہ اب تک خشک ہے نوکِ زبانِ خارِ صحرائی

عزیزؔ آخر کہاں تک دو گے صہبائے سخن بس بس
دعا وہ مانگ منہ سے خود اثر جس کا ہے شیدائی

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام