کیسے مل جائے قرار اِس عشق کے بیمار کو

سمعانؔ خلیفہ
کیسے مل جائے قرار اِس عشق کے بیمار کو
دل یہ تڑپے کس قدر دیدارِ پُر انوار کو
اُن کے در پر حاضری کی ہو اجازت اب نصیب
سارباں! اب تو لیے چل ناقۂ سیار کو
روضۂ اطہر کی مٹی کو سر آنکھوں پر رکھوں
چومتا رہ جاؤں سنگِ آستانِ یار کو
راستہ گم ہے نشانِ راہ بھی سب مٹ گئے
کارواں جو بھول بیٹھا قافلہ سالار کو
میرے آقا انبیا کے حسن کی ہیں آبرو
کیوں نہ آنکھوں میں بسا لوں سیرتِ سرکار کو
اُن کی فرقت میں دلِ سمعاںؔ بہت رنجور ہے
اے صبا! طیبہ سے لے آ عشق کی مہکار کو


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام