پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے

حفیظؔ ہوشیار پوری
پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے
تیرے جلوؤں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے
عشق کی منزلِ اول پہ ٹھہرنے والو !
اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے
تو جہاں جائے گی غارت گرِ ہستی بن کر
ہم بھی اب ساتھ ترے گردشِ دوراں ہوں گے
کس قدر سخت ہے یہ ترک و طلب کی منزل
اب کبھی ان سے ملے بھی تو پشیماں ہوں گے
تیرے جلوؤں سے جو محروم رہے ہیں اب تک
وہی آخر ترے جلوؤں کے نگہباں ہوں گے
جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئے
زندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گے

کوئی بھی غم ہو غمِ دل کہ غمِ دہر حفیظؔ
ہم بہر حال بہر رنگ غزل خواں ہوں گے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام