کیسے یہ پیچ گردشِ دوراں میں آئے ہیں

باقیؔ صدیقی
کیسے یہ پیچ گردشِ دوراں میں آئے ہیں
آنسو بھی آج دیدۂ حیراں میں آئے ہیں
بادِ خزاں کا فیض ہے یا لغزشِ بہار
کچھ پھول ٹوٹ کر مرے داماں میں آئے ہیں
نادم ہوئی ہے آ کے بہارِ وطن کی یاد
وہ بھی مقام شامِ غریباں میں آئے ہیں
کس کا غبار ہے کہ نسیمِ سحر کے ساتھ
کچھ ذرے اڑ کے صحنِ گلستاں میں آئے ہیں
درکار ہو نہ آپ کو ایسی بھی روشنی
ہم داغ لے کر بزمِ چراغاں میں آئے ہیں
رستے ہیں شاخ شاخ سے پھولوں کے آبلے
گلشن میں آئے ہیں کہ بیاباں میں آئے ہیں
آلامِ روزگار سے باقیؔ کبھی کبھی
گھبرا کے سایۂ غمِ جاناں میں آئے ہیں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام