رائیگاں کر کے ہر اک اپنی نشانی میں نے

عزیز نبیلؔ
رائیگاں کر کے ہر اک اپنی نشانی میں نے
خود سے کر لی ہے کہیں نقل مکانی میں نے
جسم پر مل لی چمکتی ہوئی اک صبحِ نشاط
آنکھ سے باندھ لی اک رات سہانی میں نے
خشک ہوتے ہوئے دو تنہا کناروں کی قسم
ٹوٹتے دیکھی ہے دریا کی روانی میں نے
کیا ضروری ہے کہ ہر بات تمہاری مانوں
بات اپنی بھی کئی بار نہ مانی میں نے

وہ جو اک شخص مرے ساتھ کبھی تھا ہی نہیں
خود کو سمجھا ہے نبیلؔ اس کی زبانی میں نے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام