ہزار آرائشیں کیجے مگر اچھا نہیں لگتا

اعجازؔ رحمانی
ہزار آرائشیں کیجے مگر اچھا نہیں لگتا
جو دل وحشت بداماں ہو تو گھر اچھا نہیں لگتا
نمائش جسم کی بے پیرہن اچھی نہیں ہوتی
خزاں کے دور میں کوئی شجر اچھا نہیں لگتا
خوشی میں بھی نکل آتے ہیں آخر آنکھ سے آنسو
یہ بے موقع مذاقِ چشمِ تر اچھا نہیں لگتا
سوادِ قریۂ جاں میں تغیّر بھی ضروری ہے
کوئی موسم ہو لیکن عمر بھر اچھا نہیں لگتا
بچھڑ کرساتھیوں سے زندگی بے کیف ہوتی ہے
اکیلا پر ہوا کے دوش پر اچھا نہیں لگتا
یہ آئینہ ہے سب کے منہ پہ سچی بات کہتا ہے
نگاہیں پھیر لو تم کو اگر اچھا نہیں لگتا
بھلا لگتا ہے جب پھول پھولوں میں رہے شامل
ستارہ آسماں سے ٹوٹ کر اچھا نہیں لگتا
بچا سکتا ہےدامن کون فطرت کے تقاضوں سے
کوئی ساتھی نہ ہو جب تک سفر اچھا نہیں لگتا
وہ اپنے ہوں کہ بیگانے سبھی بیزار ہیں مجھ سے
سرِ محفل کوئی شوریدہ سر اچھا نہیں لگتا
حصارِ ذات سے اعجازؔ جو باہر نہیں آتے
انہیں کوئی بہ الفاظِ دِگر اچھا نہیں لگتا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام