چرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا

غزل| قتیلؔ شفائی انتخاب| بزم سخن

چرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس چھوڑ گیا
جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں
نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا
وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی
ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا
سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر
وہ ایک دھند مرے آس پاس چھوڑ گیا
غزل سجاؤں قتیلؔ اب اسی کی باتوں سے
وہ مجھ میں اپنے سخن کی مٹھاس چھوڑ گیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام