تھی گر آنے میں مصلحت حائل

جونؔ ایلیا
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
یاد آنا کوئی ضروری تھا
دیکھئے ہوگئی غلط فہمی
مسکرانا کوئی ضروری تھا
لیجئے بات ہی نہ یاد رہی
گنگنانا کوئی ضروری تھا
گنگنا کر مری جواں غزلیں
جھوم جانا کوئی ضروری تھا
مجھ کو پا کر کسی خیال میں گم
چھپ کے آنا کوئی ضروری تھا
اُف وہ زلفیں وہ ناگنیں وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
اور ایسے اہم مذاق کے بعد
روٹھ جانا کوئی ضروری تھا

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام