حقیقت میں حقیقت آشنائی کن فکاں تک ہے

غزل| ابن حسؔن بھٹکلی انتخاب| بزم سخن

حقیقت میں حقیقت آشنائی کن فکاں تک ہے
مگر اللہ والوں کی رسائی آسماں تک ہے
تری آواز سن کر وجد میں آتی ہیں پریاں بھی
ارے بلبل! تری نغمہ سرائی کہکشاں تک ہے
قدم تو کیا نظر بھی اُس کی منزل تک نہیں پہنچی
امیرِ کارواں کی خود ستائی کارواں تک ہے
خزاں کا دور ہے اس کرب سے مالی بھی گزرے گا
ابھی معصوم کلیوں کی دہائی گلستاں تک ہے
کسی دن میں بھی تھوڑا سا رویّہ سخت کر لوں گا
مجھے لگتا ہے اس کی کج ادائی مہرباں تک ہے
یہ خوش فہمی بھی زائل ہو گئی ابنِ حسؔن میری
میں سمجھا تھا کہ میری کارروائی رازداں تک ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام