ہم گذشتہ صحبتوں کو یاد کرتے جائیں گے

عزیزؔ لکھنوی
ہم گذشتہ صحبتوں کو یاد کرتے جائیں گے
آنے والے دور بھی یونہی گذرتے جائیں گے
کچھ خدا کا بھی خیال اب دل میں کرتے جائیں گے
بت کدے جاتے ہیں کعبہ میں ٹہرتے جائیں گے
یہ تو سوچو دل ہی کیا ہے مجرمانِ عشق کا
سامنے جائیں گے لیکن ڈرتے ڈرتے جائیں گے
حسن ہو جس رنگ میں محتاجِ آرائش نہیں
وہ بگڑتے جائیں گے جتنا سنورتے جائیں گے
در پہ آئے ہیں تمہارے تم ملو گے یا نہیں
آج جھگڑے عمر بھر کے ختم کرتے جائیں گے
تم نقاب اُلٹو تو دیکھو دیکھنے والوں کا حال
رنگ اُڑتے جائیں گے چہرے اُترتے جائیں گے

دیدۂ تر بن کے ناسور آہ کہتے ہیں عزیزؔ
جس قدر دنیا دبائے گی ابھرتے جائیں گے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام