سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے

غزل| ابن حسؔن بھٹکلی انتخاب| بزم سخن

سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
جو دیکھنا تھا اہلِ نظر دیکھتے رہے
اُن کی نگاہیں منزلِ مقصود تک گئیں
ہم دور ہی سے گردِ سفر دیکھتے رہے
بس ایک آہ عرشِ معلّٰی پہ کیا گئی
تا عمر بد دعا کا اثر دیکھتے رہے
وہ بھی بدل رہے تھے نگاہوں کا زاویہ
ہم بھی اِدھر اِدھر سے اُدھر دیکھتے رہے
ہم کو تو سب حروف ہی ساکن لگے مگر
وہ حرف حرف زیر زبر دیکھتے رہے
تعریف کر رہے تھے سبھی شاہ کار کی
ہم اپنا اپنا دستِ ہنر دیکھتے رہے

ابنِ حسؔن! ہماری بصارت کی خیر ہو
کس سمت دیکھنا تھا کدھر دیکھتے رہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام