جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے

غزل| انجمؔ رہبر انتخاب| بزم سخن

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے
چاند تارے مرے قدموں میں بچھے جاتے ہیں
یہ بزرگوں کی دعاوؤں کا اثر لگتا ہے
ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیں
سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام