وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگِ جاں ہو گئیں

عزیزؔ لکھنوی
وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگِ جاں ہو گئیں
دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں
تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمعِ انجمن
آج وہ شکلیں چراغِ زیرِ داماں ہو گئیں
اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے
ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں
دم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ
پھر وہی زلفیں مرے غم میں پریشاں ہو گئیں
پھونک دی اک روح دیکھا زور اعجاز جنوں
جتنی سانسیں میں نے لیں تار گریباں ہو گئیں
عشق کے قصے کو ہم سادہ سمجھتے تھے مگر
جب ورق الٹے تو آنکھیں سخت حیراں ہو گئیں
چند تصویریں مری جو مختلف وقتوں کی تھیں
بعد میرے زینت دیوار زنداں ہو گئیں
اڑ کے دل کی خاک کے ذرے گئے جس جس طرف
رفتہ رفتہ وہ زمینیں سب بیاباں ہو گئیں
آئینے میں عکس ہے اور عکس میں جذب خلش
دل میں جو پھانسیں چبھیں تصویر مژگاں ہو گئیں
اس کی شام غم پہ صدقے ہو مری صبح حیات
جس کے ماتم میں تری زلفیں پریشاں ہو گئیں
شام وعدہ آئیے تو آپ اس کی فکر کیا
پھر بنا دوں گا اگر زلفیں پریشاں ہو گئیں
کس دل آوارہ کی میت گھر سے نکلی ہے عزیزؔ
شہر کی آباد راہیں آج ویراں ہو گئیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام