چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو

غزل| احمد فرازؔ انتخاب| بزم سخن

چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر ہے تو اس کا خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے چال جو بھی ہو
فرازؔ اس نے وفا کی کہ بے وفائی کی
جواب دہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام