تمہارے شہر میں جس راہ سے نکلتے ہیں

غزل| سلیمان خمارؔ انتخاب| بزم سخن

تمہارے شہر میں جس راہ سے نکلتے ہیں
ہزاروں مسئلے ہر گام ساتھ چلتے ہیں
ملا جو آج میں اس سے تو یہ ہوا معلوم
کہ کیسے موم سے دل پتھروں میں ڈھلتے ہیں
اداس اداس سی تنہائیوں کے کمرے میں
حسین سانولیوں کے بدن پگھلتے ہیں
جو پھول نکہتیں تقسیم کر رہے تھے کبھی
وہ پھول آج فضا میں شرر اگلتے ہیں
حسین خواب کہاں زندگی کی آنکھوں میں
ملال و یاس کے تاریک سائے پلتے ہیں
اک ایک موڑ پہ افکار کی گلی میں خمارؔ
وہ آنچ ہے کہ خیالوں کے جسم جلتے ہیں



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام