بھولے نہ کسی حال میں آدابِ نظر ہم

غزل| جان نثار اخترؔ انتخاب| بزم سخن

بھولے نہ کسی حال میں آدابِ نظر ہم
مڑ کر نہ تجھے دیکھ سکے وقتِ سفر ہم
اے حسن کسی نے تجھے اتنا تو نہ چاہا
برباد ہوا تیرے لئے کون؟ مگر ہم
جینے کا ہمیں خود نہ ملا وقت تو کیا ہے
لوگوں کو سکھاتے رہے جینے کا ہنر ہم
اب تیرے تعلق سے ہمیں یاد ہے اتنا
اک رات کو مہمان رہے تھے تیرے گھر ہم
دنیا کی کسی چھاؤں سے دھندلا نہیں سکتا
آنکھوں میں لئے پھرتے ہیں وہ خوابِ سحر ہم
وہ کون سی آہٹ تھی جو خوابوں میں در آئی
کیا جانئے کیوں چونک پڑے پچھلے پہر ہم



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام