اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

غزل| شعیبؔ بن عزیز انتخاب| بزم سخن

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
اب تو اس کی آنکھوں کے میکدے میسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں
زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے
دلبروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیبؔ اس کا نام چن لیا تم نے
اس نے بھی ہے چن رکھا ایک نام ناموں میں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام