سن کر بیانِ درد کلیجہ دہل نہ جائے

غزل| شاذؔ تمکنت انتخاب| ابو الحسن علی

سن کر بیانِ درد کلیجہ دہل نہ جائے
دنیا سے ڈر رہے تھے کہ دنیا بدل نہ جائے
ہر محفلِ نشاط سے پھرتا ہوں دور دور
کیا احتیاط ہے کہ ترا غم بہل نہ جائے
تو آج تک تو ہے مری نظروں میں ہو بہ ہو
دنیا بدل گئی تری صورت بدل نہ جائے
ہیں طاقِ آرزو پہ کھلونے سجے ہوئے
مایوس آرزو کی طبیعت مچل نہ جائے
تشنہ لبی کہیں مجھے غرقاب کر نہ دے
تھوڑی سی روشنی کے لئے گھر ہی جل نہ جائے
اک خوف ہے کہ منزلِ نسیاں قریب ہے
تو وادئ خیال سے آگے نکل نہ جائے

روؤں کہاں کہ راحتِ خلوت نہیں ہے شاذؔ
ہنسنے پہ بھی یہ شرط کہ آنسو نکل نہ جائے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام