کون ہے وجہِ تخلیقِ کون و مکاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں

نعت| اعجازؔ رحمانی انتخاب| بزم سخن

کون ہے وجہِ تخلیقِ کون و مکاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
عبد و معبود کے آج بھی درمیاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
ماہ و خورشید لوح و قلم آپؐ کے کہکشاں ساز نقشِ قدم آپؐ کے
زینتِ بحر و بر رونقِ آسماں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
سب کے رتبے ہیں اعلیٰ خدا کی قسم ہر نبیؐ اپنی اپنی جگہ محترم
آپؐ کے بعد محبوبِ ربِّ جہاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
مرکزِ وحیِ رب آپ کی ذات ہے لب پہ قرآن کے آپؐ کی بات ہے
ہر عبادت کی جاں شاملِ ہر اذاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
دولتِ علم و دانش عطا آپؐ کی بات کرتا نہیں رد خدا آپؐ کی
دھڑکنوں میں نہاں ماورائے گماں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
اپنے سینے میں امت کا غم رکھ لیا آپؐ نے آدمی کا بھرم رکھ لیا
بعدِ ربِّ العلا آپؐ سا مہرباں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
آپؐ کا ہر عمل آپؐ کی ہر ادا جس سے قائم ہے معیار انسان کا
حرفِ قرآنِ ناطق خدا کی زباں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپؐ ہیں
عرش تا فرش کوئی نہیں آپؐ سا آپ عظمت میں ہیں ہر بشر سے سوا
زینتِ روز وشب عظمتِ دو جہاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
لب پہ روزِ جزا کس کا نام آئے گا کون میدانِ محشر میں کام آئے گا
کس کے دم سے ہے یہ کاروبارِ جہاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں
آپؐ کی گفتگو کا اثر دیکھیے با خبر ہوگئے بے خبر دیکھیے
کون اعجازؔ ایسا ہے معجز بیاں اور کوئی نہیں ہے حضورؐ آپ ہیں



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام