بہت حسین بڑی پُر بہار گزری ہے

غزل| ساحؔر بھوپالی انتخاب| ابو الحسن علی

بہت حسین بڑی پُر بہار گزری ہے
وہ زندگی جو سرِ کوئے یار گزری ہے
وہی کہ جو تھی سرِ بزم غیر کی جانب
وہی نگاہ مرے دل کے پار گزری ہے
نیا شگوفہ ہے کھلنے کو پھر کوئی شاید
چمن سے بادِ صبا سوگوار گزری ہے
یہ اور بات ہے وہ سہ گیا اسے ورنہ
دلِ حزیں پہ خرابی ہزار گزری ہے
نہ راز پا سکی پھر بھی غمِ محبت کا
رہِ جنوں سے خرد بار بار گزری ہے
اسی میں ان کی خوشی کا تھا راز پوشیدہ
جو بات مجھ کو بہت ناگوار گزری ہے
کچھ ایسا رنگ جمایا خزاں نے گلشن میں
کہ ڈرتی کانپتی فصلِ بہار گزری ہے
سمجھ سکے گا وہی میرے غم کو اے ساحرؔ
کہ جس کی زندگی بے اختیار گزری ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام