کرتی ہے دل سے حسرتِ دل سینہ زوریاں

غزل| شان الحق حقیؔ انتخاب| بزم سخن

کرتی ہے دل سے حسرتِ دل سینہ زوریاں
ہر شب اسے سناتا ہوں اٹھ اٹھ کے لوریاں
شبنم کی طرح اشک بھی آنکھوں سے اڑ گئے
رہتی ہیں جیسے صاف گلوں کی کٹوریاں
اپنی کتھا سب ان کے گلے سے اتار دی
ہم نے بنا بنا کے غزل کی گلوریاں
حسنِ نظر نواز کو شاید خبر نہ ہو
گھونگھٹ میں کیسے نیر بہاتی ہیں گوریاں
کوثر میں کب بھلا جو نشہ تشنگی میں تھا
وہ نعمتیں عجب تھیں جو ہم نے بٹوریاں
حقّی دیے ہیں دل نے بل ان میں بہت کڑے
سلجھا رہا ہوں اپنے خیالوں کی ڈوریاں



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام