رعنائی کونین سے بیزار ہمیں تھے

غزل| احسان دانشؔ انتخاب| بزم سخن

رعنائی کونین سے بیزار ہمیں تھے
ہم تھے ترے جلوؤں کے طلب گار ہمیں تھے
پتھر کبھی گلیوں پہ برستے تھے ہمیں پر
دیوانہ گرِ کوچہ و بازار ہمیں تھے
ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست
دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے
اس بندہ نوازی کے تصدق سرِ محشر
گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے
دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا
راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے
پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر
مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے
بازارِ ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن
لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے
ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے
جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے
کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں
سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے
ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی
کل نقشِ دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے
اربابِ وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر
جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے
احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
چاہا تھا انہیں ہم نے خطا وار ہمیں تھے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام