فضاؤں میں خوشبو گھلی جا رہی ہے

نعت| منصوؔر عثمانی انتخاب| بزم سخن

فضاؤں میں خوشبو گھلی جا رہی ہے
کہیں نعتِ احمد پڑھی جا رہی ہے
اِدھر ہم خیالِ محمدؐ میں گم ہیں
ادھر اپنی قسمت لکھی جا رہی ہے
میں عاصی ہوں لیکن یہ ان کا کرم ہے
مری ہر گزارش سنی جا رہی ہے
درودوں کی ڈالی سلاموں کے تحفے
صبا لے کے سوئے نبی جا رہی ہے
تصور میں دربارِ عالی ہے ان کا
تخیل میں خوشبو گھلی جا رہی ہے
صبا جا کے کہیو مدینے میں ان سے
کہ فرقت میں جاں پر بنی جا رہی ہے
یہ منصوؔر ان کا کرم ہے کہ میری
مرادوں سے جھولی بھری جا رہی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام