کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

غزل| نظرؔ کانپوری انتخاب| بزم سخن

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں
کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں
ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے
ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں
جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی
اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں
کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف
عبادتوں کے لئے صبح و شام آتے ہیں
اندھیرا چھایا تو سائے نے ساتھ چھوڑ دیا
سنا ہے وقت پہ اپنے ہی کام آتے ہیں
جو رنگ ابھرتے ہیں الفت کی داستاں میں نظرؔ
فقط انہیں کے مثالوں میں نام آتے ہیں



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام