جو دیکھا آئینہ چہرہ لہولہان ملا

غزل| ظفر اقبال ظفرؔ انتخاب| بزم سخن

جو دیکھا آئینہ چہرہ لہولہان ملا
اذیتوں کی گھٹن کرب کا نشان ملا
اٹھا کے خاک سے مجھ کو گلے لگا لیتا
کوئی نہ ایسا زمانے میں مہربان ملا
سیاہ رات کے سناٹے میں مجھے اے دوست
اداس اداس سا اک تنہا آسمان ملا
بلا کی دھوپ ہے اور جل رہے ہیں پاؤں مرے
کہیں نہ چھاؤں ملی اور نہ سائبان ملا

بچھڑ گیا تھا جو تاریک راستے میں ظفرؔ
وہ ایک شخص کہ پھر اپنے درمیان ملا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام