شب کو کیا کیا باغ میں جلوے تمہارے ہوگئے

غزل| تعشقؔ لکھنوی انتخاب| بزم سخن

شب کو کیا کیا باغ میں جلوے تمہارے ہوگئے
چاندنی کے پھول جو توڑے ستارے ہوگئے
برق موجیں بن گئیں موتی شرارے ہوگئے
دل جلے جب دفن دریا کے کنارے ہوگئے
دور سے جو آج مدت بعد چار آنکھیں ہوئیں
آبدیدہ ہو کے باہم کچھ اشارے ہوگئے
رات کو تیرا مجھے دھوکہ ہوا ائے ماہِ نَو!
بیخودی میں چاند سے کیا کیا اشارے ہوگئے
اُس کے آنے سے تو بہتر ہے کہ آئے وقتِ نزع
کچھ تو حسرت کی نگاہوں کے نظارے ہوگئے
ائے تعشقؔ آنسوؤں میں جب ڈبویا عشق نے
تھے ہمارے آشنا جتنے کنارے ہوگئے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام