حسابِ ترکِ تعلق تمام میں نے کیا

غزل| سعودؔ عثمانی انتخاب| بزم سخن

حسابِ ترکِ تعلق تمام میں نے کیا
شروع اُس نے کیا اختتام میں نے کیا
وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے
سو اُس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا
بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی
خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا
اُس ایک ہجر نے مِلوا دیا وصال سے بھی
کہ تُو گیا تو محبت کو عام میں نے کیا
چلی جو سیلِ رواں پر وہ کاغذی کشتی
تو اس سفر کو محبت کے نام میں نے کیا
وہ آفتاب جو دل میں دہک رہا تھا سعودؔ
اُسے سپردِ شفق آج شام میں نے کیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام