سنا کیا جو آنسو نکلنے لگے

غزل| حفیظؔ جونپوری انتخاب| بزم سخن

سنا کیا جو آنسو نکلنے لگے
ہوا کیا جو تم ہاتھ ملنے لگے
گھٹا آئی ساغر کھنگلنے لگے
ترشح ہوا دور چلنے لگے
شب غم بڑھا حد سے جب اضطراب
اُٹھے اور اُٹھ کر ٹہلنے لگے
سنائی یہ قاصد نے کس کی خبر
جو گھبرا کے وہ ہاتھ ملنے لگے
شکایت کا دل کو مزہ آگیا
بگڑ کر وہ آنکھیں بدلنے لگے
محبت ہوئی رشک پیدا ہوا
جلی شمع پروانے جلنے لگے
کسی کی جو سیدھی نظر ہوگئی
مقدر کے سب بل نکلنے لگے
وہ مستی بھری آنکھیں یاد آ گئیں
چھلکتے ہوئے جام چلنے لگے
شبِ غم جو آہوں نے باندھی ہوا
وہ سوتے میں کروٹ بدلنے لگے
جہاں دل میں ان کے گرہ پڑ گئی
ہر ایک بات میں بل نکلنے لگے
حفیظؔ آ کے لغزش نے تھاما قدم
جو ہم میکدے سے نکلنے لگے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام