ملے جو بھی مجھ کو قبول ہے وہ گلاب ہو کہ ببول ہو

عبد العلیم شاہینؔ
ملے جو بھی مجھ کو قبول ہے وہ گلاب ہو کہ ببول ہو
میری زیست میں مگر اے خدا! تیری رحمتوں کا نزول ہو
میری آرزوئیں ہوں مختصر میری حسرتوں میں نہ طول ہو
میری زندگانی کا مدّعا تو رضائے حق کا حصول ہو
نہ عبث ہو میرا کوئی قدم کوئی گفتگو نہ فضول ہو
میری رہروی نہ ہو بے سبب کوئی زندگی کا اصول ہو
یہ بہت ہے میرے نصیب میں اگر ان کے قدموں کی دھول ہو
یہی آرزو ہے میرے خدا میرے دل میں حبِّ رسول ہو
ہے زباں پہ ورد درود کا میرے پاس اس کے سوا ہے کیا
میرے مصطفےٰ میرے مجتبیٰ یہ حقیر تحفہ قبول ہو
میری روح کو وہ سکون دے وہ قرار مجھ کو دے اے خدا
کہ ملیں ہزار بھی غم اگر میرا دل کبھی نہ ملول ہو

یہ مزاق شعر و سخن مجھے کہیں راہِ حق سے ہٹا نہ دے
کہ پیام ہو کوئی معتبر میری شاعری نہ فضول ہو

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام