ہوا زمانے کی ساقی بدل تو سکتی ہے

سلامؔ مچھلی شہری
ہوا زمانے کی ساقی بدل تو سکتی ہے
حیات ساغرِ رنگیں میں ڈھل تو سکتی ہے
بس اک لطیف تبسم بس اک حسین نظر
مریضِ دل کی یہ حالت سنبھل تو سکتی ہے
جہاں سے چھوڑ رہے ہو مجھے اندھیرے میں
وہیں سے راہِ محبت نکل تو سکتی ہے
حضور جام ستاروں سے لڑ کے آیا ہوں
ہوا کی زد میں بھی یہ شمع جل تو سکتی ہے
پھر اپنے غنچۂ زخمِ جگر کا کیا ہوگا
نسیمِ صبح مری سمت چل تو سکتی ہے
تری نگاہِ کرم کی قسم ہے اب بھی مجھے
یہی یقین کی دنیا بدل تو سکتی ہے

سلامؔ جام و سبو کی یہ شاعری معلوم
وگر نہ اپنی طبیعت بہل تو سکتی ہے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام