فقط آسانیاں ہوتیں تو آسانی سے مر جاتے

غزل| صغیر احمد صغیرؔ انتخاب| بزم سخن

فقط آسانیاں ہوتیں تو آسانی سے مر جاتے
پریشاں گر نہیں ہوتے پریشانی سے مر جاتے
خدا کا شکر ہے تم سے ملے تھے خواب میں ورنہ
حقیقت میں یہ سب ہوتا تو حیرانی سے مر جاتے
یہ سب محروم جیتے ہیں کسی امیدِ فردا پر
انہیں سب کچھ ہی مل جاتا فراوانی سے مر جاتے
ہم اہلِ دشت کو مشکل پسندی راس آتی ہے
کوئ مشکل نہیں ہوتی تن آسانی سے مر جاتے

خرد نے عمر بھر ہی امتحانوں میں رکھا ہم کو
صغیرؔ اس سے تو اچھا تھا کہ نادانی سے مر جاتے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام