قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

غزل| محسؔن نقوی انتخاب| بزم سخن

قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے
بس اس لئے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے
اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے
حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے
شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے
ہر جرم میری ذات سے منسوب ہے محسؔن
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام