حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے

غزل| قتیلؔ شفائی انتخاب| بزم سخن

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے
گلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے
ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکن
نظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے
نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کو
وہ جلوہ جلوۂ جانانہ بن جائے تو کیا کیجے
ترے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے
اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے

خدا کا گھر سمجھ رکھا ہے اب تک ہم نے جس دل کو
قتیلؔ اس میں بھی اک بت خانہ بن جائے تو کیا کیجے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام