کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

غزل| اخترؔ شیرانی انتخاب| بزم سخن

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
اک بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
مجھ کو یہ اعتراف دعاوؤں میں ہے اثر
جائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں
اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم
نازل ہو دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں
ظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقی
تاروں کی مشعلیں نہ چرائیں تو کیا کریں
شب بھر تو ان کی یاد میں تارے گنا کئے
تارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں
عہدِ طرب کی یاد میں رویا کئے بہت
اب مسکرا کر بھول نہ جائیں تو کیا کریں
اب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں
وہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں
وعدے کے اعتبار میں تسکینِ دل تو ہے
اب پھر وہی فریب نہ کھائیں تو کیا کریں

ترکِ وفا بھی جرمِ محبت سہی مگر
ملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام