سادگی یوں آزمائی جائے گی

غزل| مرتضیٰ برلاسؔ انتخاب| بزم سخن

سادگی یوں آزمائی جائے گی
نت نئی تہمت لگائی جائے گی
جاگتے گزری ہے ساری زندگی
اب ہمیں لوری سنائی جائے گی
سوچ کا روزن بھی آخر کیوں رہے
روشنی یہ بھی بجھائی جائے گی
سب پرانے گھر گرائے جائیں گے
اک نئی دنیا بسائی جائے گی
دور تک ہوگی ہوس کاروں کی دوڑ
دھول بستی میں اڑائی جائے گی
آسماں کو بھی نہ بخشا جائے گا
چاند پر کالک لگائی جائے گی
جسم تک محدود ہوگی ہر خوشی
روح کی تسکیں نہ پائی جائے گی
یہ جزیرہ تب ہمیں اپنائے گا
جب ہر اک کشتی جلائی جائے گی


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام