اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے

غزل| من موہن تلخؔ انتخاب| بزم سخن

اب اور سانحے ہم پر نہیں گزرنے کے
گزر گئے ہیں جو لمحے تھے خود سے ڈرنے کے
نہ بھاگنے کے رہے ہم نہ اب ٹھہرنے کے
وہ لمحے آئے جو آ کر نہیں گزرنے کے
نئے سرے سے تعلق بنیں گے بگڑیں گے
کہ اب ارادے ہیں ایک ایک بات کرنے کے
یہ ایک عرصے کے چپ کی خراش اور رہی
صدا کے زخم تو چپ سے نہیں تھے بھرنے کے
دلوں میں ہول وہ بیٹھا ہے اڑتی باتوں کا
نہ روکنے کے کسی کو نہ خود ٹھہرنے کے
جو آئے جی میں وہ کہہ لیکن اتنا دھیان رہے
کہ خود پہ ہم نہیں الزام اور دھرنے کے
تو کیا ہوا جو ندی نے بلی نہیں مانگی
فسانے گڑھ نہ لیے سب نے پار اترنے کے
بنا کے تم مری باتیں مرے لئے الزام
نہ بولنے کے رہے ہو نہ چپ ہی کرنے کے
بڑے بڑوں نے یہاں آ کے دم نہیں مارا
وہ آئے مرحلے اپنی صدا سے ڈرنے کے
ہم ایسے آئے ہیں جیسے ملیں گے پہلی بار
نئے نئے سے ہیں سب درد بات کرنے کے
یہاں سے جاؤ تو اک اپنے جیسا چھوڑتے جاؤ
عجب رواج ہیں اس شہر سے گزرنے کے
ہر ایک صبح امکانِ سانحہ ہر شام
صدائیں آتی ہیں یہ دن نہیں تھے مرنے کے
کہو ہر اک سے کہ ہر شخص یاد کھو بیٹھا
بغیر اس کے یہ چہرے نہیں نکھرنے کے
ہر ایک بات اترنے لگی ہے ذہن سے تلخؔ
بہت قریب ہیں اس لمحے ہم بکھرنے کے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام