دل میں جب حسرتِ دیدار کی ایک شمع جلی

غزل| اختؔر سعید خاں انتخاب| بزم سخن

دل میں جب حسرتِ دیدار کی ایک شمع جلی
پھر وہی ہم تھے وہی درد وہی اس کی گلی
بجھ گئی پھر شبِ امید کی لو پچھلے پہر
خواب آنکھوں میں لئے ہجر زدہ رات چلی
زندگی حسنِ یقیں ہو کہ شبستانِ گماں
اک کہانی تھی سنا آئے بری ہو کہ بھلی
ہم سے کیا پوچھتے ہو صبحِ بہاراں کا عروج
ہم نے کھلتے ہوئے دیکھی ہی نہیں دل کی کلی
ہم قدم کوئی نہ تھا رہ گزرِ ہستی میں
عمر بھر اپنی ہی پرچھائیں میرے ساتھ چلی
لوگ اب پوچھتے ہیں ہنس کے وفا کا مفہوم
تھا یہی حرف کبھی زیست کا عنوانِ جلی

یوں نہ دیوانہ بنو ہوش میں آؤ اختؔر
دل کی وارفتگی ایک عہد میں لگتی ہے بھلی


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام