مستیوں کے دامن میں انقلاب پلتے ہیں

غزل| شاہدؔ صدیقی انتخاب| بزم سخن

مستیوں کے دامن میں انقلاب پلتے ہیں
میکشوں کی لغزش سے میکدے سنبھلتے ہیں
کیوں ہمارے ساتھ ایسے سست گام چلتے ہیں
جو سفر سے گھبرا کے راستے بدلتے ہیں
ظلمتیں اجالوں پہ فتح پا نہیں سکتیں
اک چراغ بجھتا ہے سو چراغ جلتے ہیں
قافلے اندھیرے میں خود ہی راستے ڈھونڈیں
رہنما تو ایسے ہیں دور دور چلتے ہیں
دیکھئے کہاں پہنچیں یہ سفر کے دیوانے
آسماں کو تکتے ہیں اور زمیں پہ چلتے ہیں
کیا ہوا جو ساکن ہے آج سطح دریا کی
تہہ میں کتنے ہی طوفاں کروٹیں بدلتے ہیں
زندگی کو ڈھلنا ہے آج اُن کے سانچوں میں
زندگی کی گرمی سے جن کے دل پگھلتے ہیں
ایک پل کے رکنے سے دور ہو گئی منزل
صرف ہم نہیں چلتے راستے بھی چلتے ہیں

آشنا ہیں پروانے سوزِ غم کی عظمت سے
شمع ہو تو جلتے ہیں اور نہ ہو تو جلتے ہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام