ہر طرف آج گل فشانی ہے

غزل| سلیم شوؔق پورنوی انتخاب| قتیبہ جمال

ہر طرف آج گل فشانی ہے
آج مستی میں رات رانی ہے
چاک سینہ ہے تار دامن ہے
یہ بھی تیری ہی مہربانی ہے
شاعری شاعری نہیں میری
دردِ دل کی یہ ترجمانی ہے
جو بھی ملتا ہے زخم دیتا ہے
دل تو زخموں کی راجدھانی ہے
اس کو جادو سحر سے کیا ہوگا
عشق تو شوقؔ آسمانی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام