ویران اور حسن کا منظر لئے ہوئے

غزل| نشورؔ واحدی انتخاب| بزم سخن

ویران اور حسن کا منظر لئے ہوئے
اللہ رے دل تخیّلِ دلبر لئے ہوئے
میں لطف اٹھا رہا ہوں دل و دلنواز کا
آئینہ آفتاب کے رخ پر لئے ہوئے
کتنوں کو ہوش تک نہ رہا اپنے آپ کا
گزرے جو آپ زلفِ معنبر لئے ہوئے
خود پی لیں یا پلا دیں کسی تشنہ کام کو
کیا دیکھتے ہیں ہاتھ میں ساغر لئے ہوئے
خاکِ لحد میں سوئیں گے یہ فتنہ گر تو کیا
اٹھیں گے پھر یہ فتنۂ محشر لئے ہوئے
یہ مطربانِ بزم تو کچھ رازِ دل نشورؔ
ہیں پردۂ رباب کے اندر لئے ہوئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام