‏دیکھئے اہلِ محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

غزل| تابشؔ دہلوی انتخاب| بزم سخن

‏دیکھئے اہلِ محبت ہمیں کیا دیتے ہیں
کوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں
روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکے
اہلِ گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں
منزل شمع تک آسان رسائی ہو جائے
اس لئے خاک پتنگوں کی اڑا دیتے ہیں
سوئے صحرا بھی ذرا اہلِ خرد ہو آؤ
کچھ بہاروں کا پتہ آبلہ پا دیتے ہیں
مجھ کو احباب کے الطاف و کرم نے مارا
لوگ اب زہر کے بدلے بھی دوا دیتے ہیں
ساتھ چلتا ہے کوئی اور بھی سوئے منزل
مجھ کو دھوکا مرے نقشِ کفِ پا دیتے ہیں
زندگی مرگِ مسلسل ہے مگر اے تابشؔ
ہائے وہ لوگ جو جینے کی دعا دیتے ہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام