غموں کی دھوپ تھی سر پر مگر پھر بھی نہ گھبرایا

غزل| فضاؔء فانیہ انتخاب| بزم سخن

غموں کی دھوپ تھی سر پر مگر پھر بھی نہ گھبرایا
اگر چہ راہ میں کانٹے بچھے طوفان بھی آیا
وفائیں کی تھیں جو میں نے صلہ مجھ کو ملا کچھ یوں
مرے غمخوار ہی نے مجھ پہ اب کوہِ ستم ڈھایا
کبھی جو پاس رہتا تھا نجانے اب کہاں ہوگا
بہت ڈھونڈا ہے لیکن وہ نظر پھر بھی نہیں آیا
لگا تھا حال اپنا بہتریں ہونے لگا ہے اب
مگر بد حال کرنے غم اسی چوکھٹ پہ ہے لایا
مرے گلشن میں کلیاں مسکرانے کو ترستی ہیں
کئی سالوں سے بلبل نے کوئی نغمہ نہیں گایا
کروں قسمت سے کیا شکوہ مجھے راحت نہ ملنے پر
مری حالت اب ایسی ہے مجھے بس غم ہی غم بھایا

نہ روکے پھر مجھے کوئی غمِ دل کے سنانے سے
مری آنکھوں میں اشکوں کا سمندر ہے امنڈ آیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام