درودوں میں سلاموں میں ترانوں میں اذانوں میں

سمعانؔ خلیفہ
درودوں میں سلاموں میں ترانوں میں اذانوں میں
نبی کا نام تاباں ہے زمینوں آسمانوں میں
کوئی بدبخت کیا جانے نبی کی شانِ رفعت کو
خدا اور سب ملائک ہیں نبی کے مدح خوانوں میں
شبِ اسرا میں سدرہ نے قدم چومے ہیں آقا کے
یہ رتبہ کس نے پایا ہے بھلا سارے جہانوں میں
بلائیں چاند لیتا تھا نبی کے روئے انور کی
کسی نے ایسا دیکھا ہے حسیں اب تک زمانوں میں
رخِ انور کو اے دل بر! نگاہِ شوق سے دیکھوں
تری تصویر کو چوموں خیالوں میں گمانوں میں
بھلا کوئی جہاں میں ہے پسینہ جس کا ایسا ہو
معطر اس سے خوشبوے خُتَن ہو عطر دانوں میں
ترے کوچے سے جو بادِ نسیمِ مُشک بار آئی
مہک اٹھی ہیں کلیاں میرے دل کے گلستانوں میں
مرے محبوب کیسے میں ترے دشمن کو بتلاؤں
کہ ذکرِ خیر تیرا ہے سبھی ویدوں پرانوں میں
حکایت ہے ترے حسنِ عمل کی زندۂ جاوید
تری تمثیل کیا ملتی کسی کو داستانوں میں!

نبی پیارے تو ان کی بات بھی کیوں کر نہ پیاری ہو!
ہوا سمعانؔ بھی حسنِ نبی کے قدر دانوں میں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام